❮
❯
حدیث نمبر: 4169
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنِ الْغِفَارِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : كَيْفَ بِكُمْ إِذَا شَبِعْتُمْ مِنَ الْخُبْزِ وَالزَّيْتِ ؟ فَضَجُّوا وَكَبَّرُوا سَاعَةً ، ثُمَّ قَالُوا : مَتَى يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : إِذَا فُتِحَتِ الْأَمْصَارُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ بِكُمْ إِذَا اخْتَلَفَتْ عَلَيْكُمُ الْأَلْوَانُ وَغَدَوْتُمْ بِثِيَابٍ وَجِئْتُمْ بِأُخْرَى ؟ قَالُوا : مَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : إِذَا فُتِحَتِ الْأَمْصَارُ ، وَفُتِحَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ وَقَالُوا : فَهُمْ خَيْرٌ مِنَّا يَا رَسُولَ اللهِ ، يُدْرِكُونَ الْفُتُوحَ ، قَالَ : بَلْ أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ، وَأَبْنَاؤُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ، وَأَبْنَاءُ أَبْنَائِكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ ، لَمْ يَأْخُذُوا بِشُكْرٍ ، لَمْ يَأْخُذُوا بِشُكْرٍ ، لَمْ يَأْخُذُوا بِشُكْرٍ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم روٹی اور زیتون کے تیل سے خوب سیر ہو جایا کرو گے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پکار اٹھے اور کچھ دیر تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے رہے، پھر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایسا کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بڑے بڑے شہر فتح کر لیے جائیں گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے لباس مختلف رنگوں اور قسموں کے ہو جائیں گے، تم صبح ایک لباس پہن کر نکلو گے اور شام کو دوسرا لباس پہن کر واپس آؤ گے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایسا کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بڑے بڑے شہر فتح کر لیے جائیں گے اور فارس و روم کی سلطنتیں فتح ہو جائیں گی۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! تو کیا وہ لوگ ہم سے بہتر ہوں گے جو ان فتوحات کو پائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم ان سے بہتر ہو، تمہاری اولاد ان کی اولاد سے بہتر ہے اور تمہاری اولاد کی اولاد ان کی اولاد کی اولاد سے بہتر ہے؛ انہوں نے شکر کا حق ادا نہیں کیا ہوگا، انہوں نے شکر کا حق ادا نہیں کیا ہوگا، انہوں نے شکر کا حق ادا نہیں کیا ہوگا۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف راوی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»