المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصحابة والتابعين عَلَى الْإِجْمَالِ باب: صحابہ اور تابعین کی عمومی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4167
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَأَصْحَابِي يَقِلُّونَ ، فَلَا تَسُبُّوهُمْ ، لَعَنَ اللهُ مَنْ سَبَّهُمْ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک (آنے والے وقت میں) لوگوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور میرے صحابہ (کی تعداد) کم ہوتی جائے گی، لہٰذا تم انہیں ہرگز برا بھلا نہ کہنا، «لَعَنَ اللهُ مَنْ سَبَّهُمْ» ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے انہیں برا بھلا کہا۔““
مسند ابویعلیٰ: 4189، اس کی سند میں محمد بن الفضل بن عطیہ نامی راوی متروک ہے، تاہم صحابہ کرام کی عظمت اور ان کی سب و شتم سے ممانعت کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث موجود ہیں۔