❮
❯
حدیث نمبر: 4165
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُ الْجَيْشُ فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَطْلُبُونَهُ فَلَا يَجِدُونَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْجَيْشُ فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَطْلُبُونَهُ فَلَا يَجِدُونَهُ ، فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي وَرَاءَ الْبَحْرِ لَأَتَوْهُ .
4165 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ . وَلَفْظُهُ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُ الْجَيْشُ مِنْ جُيُوشِهِمْ فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْتَنْصِرُونَ بِهِ فَتُنْصَرُوا ، فَيُقَالُ : لَا ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ ؟ وَيُقَالُ : مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَهُ ؟ فَلَوْ سَمِعُوا بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ لَأَتَوْهُ .
4165 \ 3 - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : يُبْعَثُ بَعْثٌ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ صَحِبَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُقَالُ : نَعَمْ ، فَيُلْتَمَسُ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ ، فَيُسْتَفْتَحُ بِالرَّجُلِ ، ثُمَّ يُبْعَثُ بَعْثٌ ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُلْتَمَسُ فَلَا يُوجَدُ ، حَتَّى لَوْ كَانَ مِنْ وَرَاءِ الْبَحْرِ لَأَتَيْتُمُوهُ ، ثُمَّ يَبْقَى قَوْمٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يَدْرُونَ مَا هُوَ .
4165 \ 4 - وَقَالَ الْهَيْثَمُ بْنُ كُلَيْبٍ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ بِهِ .
وَهَذَا الْإِسْنَادُ صَحِيحٌ ، لَكِنْ قَصَّرَ بِهِ أَبُو سُفْيَانَ .
فَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَمُسْلِمٌ مِنْ طَرِيقِ أَبِي الزُّبَيْرِ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ الصَّوَابُ .
4165 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوْ يَسْمَعُونَ بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِي مِنْ وَرَاءِ الْبَحْرِ لَأَتَوْهُ .
هَكَذَا قَصَّرَ ابْنُ لَهِيعَةَ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ مَعًا .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب کوئی لشکر (جہاد کے لیے) نکلے گا تو پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان محمد ﷺ کا کوئی صحابی موجود ہے؟ پس وہ انہیں تلاش کریں گے مگر پا نہ سکیں گے، پھر ایک لشکر نکلے گا تو پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس نے محمد ﷺ کے کسی صحابی کی زیارت کی ہو؟ وہ انہیں بھی تلاش کریں گے مگر پا نہ سکیں گے، (صحابہ کرام کی فضیلت کا یہ عالم ہو گا کہ) اگر میرا کوئی صحابی سمندر پار بھی ہوتا تو لوگ (حصولِ برکت و نصرت کے لیے) اس کے پاس پہنچ جاتے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ”لوگوں پر یقیناً ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے لشکروں میں سے کوئی لشکر نکلے گا تو پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جسے محمد ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہو تاکہ تم اس کے وسیلے سے اللہ کی مدد چاہو اور تمہیں فتح و نصرت عطا کی جائے؟ تو جواب ملے گا: نہیں، پھر پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو آپ ﷺ کے صحابہ کی صحبت میں رہا ہو؟ اور پوچھا جائے گا: کیا کسی نے اسے دیکھا ہے جس نے آپ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو؟ اگر وہ کسی ایسے شخص کے بارے میں سمندروں پار بھی سنتے تو ضرور اس کے پاس جاتے۔“
ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”ایک لشکر روانہ کیا جائے گا تو پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس نے محمد ﷺ کی صحبت اٹھائی ہو؟ کہا جائے گا: ہاں، چنانچہ اسے تلاش کر کے پا لیا جائے گا اور اس کے ذریعے سے فتح طلب کی جائے گی، پھر ایک اور لشکر روانہ ہو گا اور پوچھا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس نے محمد ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو اسے تلاش کیا جائے گا مگر وہ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ سمندر پار بھی ہوتا تو تم ضرور اس کے پاس پہنچتے، پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ (حقیقت میں) کیا ہے۔“
ہیثم بن کلیب نے بھی اسے جعفر بن عون کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن ابو سفیان نے اس کے بیان کرنے میں اختصار (قصور) سے کام لیا ہے۔
چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے عمرو بن دینار کے طریق سے روایت کیا ہے، اور امام مسلم نے اسے ابوالزبیر کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، اور یہ دونوں جابر رضی اللہ عنہ سے اور وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اور یہی (سیدنا ابو سعید کے واسطے والا طریق) درست ہے۔
ابو یعلیٰ کی ایک اور روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر وہ سمندر پار بھی میرے کسی صحابی کے متعلق سن پائیں گے تو (ان سے ملنے کے لیے) ضرور اس کے پاس پہنچیں گے۔“
ابن لہیعہ نے اس حدیث کی سند اور متن دونوں میں اختصار (قصور) سے کام لیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا الْإِسْنَادُ صَحِيحٌ ، لَكِنْ قَصَّرَ بِهِ أَبُو سُفْيَانَ . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2182، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1020، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4165 / 2»