المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأنصار رضي اللَّهُ عنهم باب: انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ هَارُونَ الْأَنْصَارِيِّ ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ ، وَذَرَارِيِّ ذَرَارِيِّهِمْ وَمَوَالِيهِمْ وَجِيرَانِهِمْ .سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے (انصار کے حق میں دعا فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَذَرَارِيِّ ذَرَارِيِّهِمْ وَمَوَالِيهِمْ وَجِيرَانِهِمْ» ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کی اولاد کی، اور ان کی اولاد در اولاد (یعنی نسل در نسل اولاد) کی، اور ان سے وابستہ افراد یعنی ان کے آزاد کردہ غلاموں اور ان کے پڑوسیوں کی بھی بخشش و مغفرت فرما۔“
مسند البزار: 4137، اس کی سند میں ہشام بن ہارون الانصاری کے حافظے پر کلام کیا گیا ہے، تاہم انصار کے لیے مغفرت کی دعا سے متعلق احادیث صحیحین میں دیگر اسانید سے مروی ہیں جن سے اس متن کی تائید ہوتی ہے۔