المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ أم هانئ باب: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَصَرَهَا ، ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَيْهَا ، فَرَجَعَتْ ، فَإِذَا هِيَ مَمْلُوءَةٌ سَمْنًا ، فَأَتَيْتُ فَقُلْتُ : نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ ؟ قَالَتْ : رَدَدْتَ عَلَيَّ هَدِيَّتِي ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ عَصَرْتُهَا حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَنِيئًا لَكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ ، هَذِهِ بَرَكَةٌ عَجَّلَ اللهُ لَكِ ثَوَابَهَا .سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی کی ایک کپی (چمڑے کا چھوٹا برتن) بطورِ ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو (اسے خالی کرنے کا) حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اسے اچھی طرح نچوڑا، پھر وہ برتن انہیں واپس کر دیا۔ جب وہ واپس گئیں تو دیکھا کہ وہ کپی تو دوبارہ گھی سے بھری ہوئی ہے، چنانچہ وہ (پریشان ہو کر) دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی (عتاب یا ممانعت والی) وحی نازل ہوئی ہے؟“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ام مالک! وہ کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ نے میرا ہدیہ مجھے واپس لوٹا دیا ہے (یعنی شاید اسے قبول نہیں فرمایا)۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور ان سے اس متعلق دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں نے تو اسے اس قدر نچوڑا تھا کہ مجھے (بار بار نچوڑنے سے) حیا آنے لگی تھی۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«هَنِيئًا لَكِ يَا أُمَّ مَالِكٍ» ”اے ام مالک! تمہیں یہ خوشگوار و مبارک ہو“، «هَذِهِ بَرَكَةٌ عَجَّلَ اللهُ لَكِ ثَوَابَهَا» ”یہ وہ برکت ہے جس کا ثواب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دنیا ہی میں جلد عطا فرما دیا ہے“۔“
یہ روایت نبی کریم ﷺ کی برکت اور دستِ مبارک کے معجزے پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابیہ کے اخلاص کی وجہ سے ان کے ہدیہ میں ایسی برکت ڈالی کہ نچوڑنے کے باوجود وہ برتن دوبارہ بھر گیا۔