❮
❯
حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِأَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ الْفَرَائِضِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْصَرْتُهَا فِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارٍ الْجَنَّةِ ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے متعلق دریافت کیا گیا، کیونکہ ان کا انتقال فرائض اور شرعی احکامات کے مکمل طور پر مقرر ہونے سے قبل ہی ہو گیا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَبْصَرْتُهَا فِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارٍ الْجَنَّةِ ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ» ”میں نے انہیں جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے کنارے، موتیوں کے بنے ہوئے ایک ایسے محل میں دیکھا ہے جس میں نہ تو کوئی شور و غل ہے اور نہ ہی کوئی رنج و تھکن۔“
اس حدیث کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے، تاہم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے جنت میں گھر کی بشارت صحیح بخاری و صحیح مسلم میں دیگر معتبر اسانید سے مروی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4096
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16176، 16177، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6779، 6915»