المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا يستدل بِهِ عَلَى أَنْ بنات النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلِ مِنْ أزواجه رضي اللَّهُ عنهن باب: نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں کے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے افضل ہونے کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4094
( 191 ) فِي الْفِتَنِ .ترجمہ
اس کا ذکر کتاب الفتن میں گزر چکا ہے۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُزَوَّجُ حَفْصَةُ خَيْرًا مِنْ عُثْمَانَ ، وَيُزَوَّجُ عُثْمَانُ خَيْرًا مِنْ حَفْصَةَ . فَزَوَّجَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والدِ گرامی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حفصہ کا نکاح عثمان سے بہتر (شخصیت) سے ہوگا اور عثمان کا نکاح حفصہ سے بہتر (خاتون) سے ہوگا۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے (خود سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور) اپنی صاحبزادی کا نکاح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔
اس روایت کی سند میں ولید بن محمد الموقری ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری [4005] اور دیگر کتبِ حدیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے۔