المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ ابن مسعود رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، ثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَأَتَى سَارِيَةً ، فَوَقَفَ إِلَيْهَا يُصَلِّي ، قَالَ : وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَائِدُنَا ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ لَا يَسْمَعُهُ ، فَقَرَأَ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْلِصْ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَجَلَسَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ تُجَبْ ، وَسَلْ تُعْطَ .
وَهُوَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَاكَ لَا يَسْمَعُهُ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، وَالنَّصِيبَ الْأَوْفَرَ مِنْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ، وَأَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالثَّرَى ، وَالْبُشْرَى عِنْدَ انْقِطَاعِ الدُّنْيَا ، وَأَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ ، وَفَرَحًا لَا يَنْقَطِعُ ، وَتَوْفِيقًا لِلْحَمْدِ ، وَلِبَاسَ التَّقْوَى ، وَزِينَةَ الْإِيمَانِ ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ .
قَالَ : فَانْطَلَقَ رَجُلٌ فَبَشَّرَهُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور ایک ستون کے قریب جا کر نماز پڑھنے لگے، اس وقت رسول اللہ ﷺ مسجد ہی میں تشریف فرما تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن مسعود ہمارے پیشوا ہیں“، جبکہ وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان سن نہیں رہے تھے، پھر انہوں نے ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] کی تلاوت کی، پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! اخلاص اختیار کرو“، چنانچہ انہوں نے ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کی تلاوت کی، پھر رکوع، سجدہ اور قعدہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود! دعا مانگو، تمہاری دعا قبول کی جائے گی اور سوال کرو، تمہیں عطا کیا جائے گا“۔
حالانکہ وہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) اس حالت میں بھی آپ ﷺ کی آواز نہیں سن پا رہے تھے، چنانچہ انہوں نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، وَالنَّصِيبَ الْأَوْفَرَ مِنْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ، وَأَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالثَّرَى ، وَالْبُشْرَى عِنْدَ انْقِطَاعِ الدُّنْيَا ، وَأَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ ، وَفَرَحًا لَا يَنْقَطِعُ ، وَتَوْفِيقًا لِلْحَمْدِ ، وَلِبَاسَ التَّقْوَى ، وَزِينَةَ الْإِيمَانِ ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے رفیقِ اعلیٰ (جنت میں بلند مرتبہ رفقاء) کا، اور نعمتوں والی جنتوں سے وافر ترین حصے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی اور خوشحالی کا، اور دنیا سے رخصتی کے وقت خوشخبری کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہو، اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی دائمی خوشی کا جو کبھی منقطع نہ ہو، اور تیری حمد کی توفیق، تقویٰ کے لباس، ایمان کی زینت، اور ہمیشگی والی بلند ترین جنت میں تیرے نبی محمد ﷺ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں“۔
راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص گیا اور انہیں (اس کی) خوشخبری سنائی۔