❮
❯
حدیث نمبر: 4035
( 183 ) لَهُ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذِكْرٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ .
ترجمہ

57- (183) ان کا تذکرہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوانح و حالات کے ذیل میں موجود ہے اور وہ پہلے ہی گزر چکا ہے۔

( 184 ) حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَأْنِ بِنْتِ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - تَقَدَّمَ فِي الْحَضَانَةِ .
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، وَهُوَ ابْنُ بَقِيَّةَ ، ثَنَا خَالِدٌ ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ لَا يُخْرِجَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهَا ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَتَهُ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ ، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِلَى مَنْ تَدَعُنِي ؟ فَلَمْ يَلْتَفِتْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا لِلْعَهْدِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ ، وَمَرَّ بِهَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ : إِلَى مَنْ تَدَعُونِي ؟ فَلَمْ يَلْتَفِتْ عَلَيْهَا ، وَمَرَّ بِهَا جَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَاشَدَتْهُ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا ، ثُمَّ مَرَّ بِهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، إِلَى مَنْ تَدَعُنِي ؟ فَأَخَذَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَلْقَاهَا خَلْفَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَدْنَى مَنْزِلٍ ، أَتَى زَيْدٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : إِنَّا أَوْلَى بِهَا مِنْكَ .. فَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ .
وَهُوَ عِنْدَ أَحْمَدَ مِنْ طَرِيقِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ (عمرۃ القضاء) ادا فرمایا اور آپ ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان یہ معاہدہ طے تھا کہ آپ مکہ کے رہائشیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ باہر نہیں لے جائیں گے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنا عمرہ مکمل فرما چکے اور مکہ سے روانہ ہوئے، تو آپ ﷺ کا گزر سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے پاس سے ہوا، انہوں نے پکار کر عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟“ لیکن اس عہد کی پاسداری کی خاطر جو آپ ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان تھا، آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ پھر ان کے پاس سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو انہوں نے پوچھا: ”تم لوگ مجھے کس کے پاس چھوڑ رہے ہو؟“ انہوں نے بھی التفات نہ کیا۔ پھر ان کے پاس سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے انہیں واسطہ دیا مگر انہوں نے بھی توجہ نہ دی۔ آخر میں ان کے پاس سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے پکارا: ”اے ابوالحسن! آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہیں؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں لے لیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے سوار کروا دیا۔ جب وہ سب سے قریبی منزل پر اترے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”ہم اس بچی کی پرورش کے تم سے زیادہ حقدار ہیں...“ پھر راوی نے بقیہ حدیث ذکر کی۔
امام احمد نے اسے مقسم کے طریق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4035
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»