المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ خالد بن الوليد رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیان۔
لَكِنْ رَوَاهُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، فَقَالَ : عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ أَخْرَجَهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ الْخَزَّازِ ، عَنْهُ ، وَأَوَّلُهُ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا خَالِدُ ، لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُؤْذُوا خَالِدًا ، فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللهِ تَعَالَى ، صَبَّهُ اللهُ عَلَى الْكُفَّارِ .سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! تم اہل بدر میں سے ایک شخص کو کیوں اذیت دیتے ہو؟ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کر ڈالو، تب بھی تم اس کے عمل کے مرتبے کو نہیں پا سکتے۔“ اس پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ لوگ مجھ پر زبان درازی کرتے ہیں تو میں بھی (جواباً) ان پر گرفت کرتا ہوں۔“ تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خالد کو اذیت نہ دو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک ایسی تلوار ہے جسے اللہ نے کافروں پر مسلط فرمایا ہے۔“
اس روایت کو ابو اسماعیل المؤدب نے اسماعیل بن ابی خالد، انہوں نے شعبی اور انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے، جسے امام ابو یعلیٰ نے عبداللہ بن عون الخزاز کے طریق سے تخریج کیا ہے۔