❮
❯
حدیث نمبر: 4006
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ : هَبَطْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ هَرْشَا ، فَانْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاوَلْتُهُ شِسْعِي ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ ، وَجَلَسَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ لِيُصْلِحَ نَعْلَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : انْظُرْ مَنْ تَرَى ؟ قُلْتُ : هَذَا فُلَانٌ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِئْسَ عَبْدُ اللهِ فُلَانٌ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : انْظُرْ مَنْ تَرَى ؟ قُلْتُ : هَذَا فُلَانٌ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِئْسَ عَبْدُ اللهِ فُلَانٌ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي : انْظُرْ مَنْ تَرَى ؟ قُلْتُ : هَذَا فُلَانٌ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ عَبْدُ اللهِ فُلَانٌ . وَالَّذِي قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : نِعْمَ عَبْدُ اللهِ فُلَانٌ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَأَمَّا الْآخَرَانِ لَا أُخْبِرُ بِهِمَا أَحَدًا .
* أَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ہرشا کی گھاٹی سے نیچے اترا، تو (راستے میں) آپ ﷺ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ میں نے اپنا تسمہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور آپ ﷺ ایک درخت کے سائے میں اپنے جوتے کی مرمت کرنے کے لیے تشریف فرما ہو گئے۔ اس دوران آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”دیکھو، تمہیں کون نظر آ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یہ فلاں شخص ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں اللہ کا کتنا برا بندہ ہے!“ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”دیکھو، تمہیں کون نظر آ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یہ فلاں شخص ہے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں اللہ کا کتنا برا بندہ ہے!“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”دیکھو، تمہیں کون نظر آ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”یہ فلاں شخص ہے۔“ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فلاں اللہ کا کتنا بہترین بندہ ہے!“ اور جس کے متعلق آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ ”فلاں کتنا اچھا اللہ کا بندہ ہے“ وہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ بقیہ دو افراد کے متعلق میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔
ابو معشر ضعیف راوی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 2، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4062»