المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي موسى رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثَنَا مُحْتَسِبٌ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَعَدَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْتِهِ ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَعَدَ فِي بَيْتٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ وَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُقْعِدَنِي مِنْ حَيْثُ لَا يَرَانِي مِنْهُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَقْعَدَهُ الرَّجُلُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَسَمِعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ يَقْرَأُ عَلَى مِزْمَارٍ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے اور لوگ ان کے گرد اکٹھے ہو گئے، پس انہوں نے ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ اسی دوران ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک حیرت انگیز بات نہ بتاؤں؟ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں، لوگ ان کے پاس جمع ہیں اور وہ ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں!“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مجھے ایسی جگہ بٹھا سکتے ہو جہاں سے ان میں سے کوئی بھی مجھے نہ دیکھ سکے؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے آپ ﷺ کو ایسی جگہ بٹھا دیا جہاں سے ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کو دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سماعت فرمائی تو ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ آلِ داؤد کے خوش الحان نغمات میں سے ایک لحن و ترنم کے ساتھ تلاوت کر رہے ہیں۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خوش الحانی اور انہیں آلِ داؤد کے لحن سے تشبیہ دینے کا اصل واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیگر معتبر اسانید کے ساتھ ثابت و صحیح ہے۔