المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ طلحة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : وَاللهِ إِنِّي لَفِي بَيْتِي ذَاتَ يَوْمٍ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - فِي الْفِنَاءِ ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، إِذْ أَقْبَلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
( 173 ) وَحَدِيثُ عَائِشَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي ذِكْرِ طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى - فِي غَزْوَةِ أُحُدٍ .سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! ایک دن میں اپنے گھر میں موجود تھی اور رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ صحن میں تشریف فرما تھے، جبکہ میرے اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل تھا، اسی اثنا میں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو یہ دیکھ کر مسرت ہو کہ وہ زمین پر چلتے پھرتے ایک ایسے شخص کو دیکھے جو اپنی نذر پوری کر چکا ہے ﴿قَضَى نَحْبَهُ﴾ [سورة الأحزاب: 23]، تو اسے چاہیے کہ وہ طلحہ (رضی اللہ عنہ) کو دیکھ لے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مروی وہ حدیث جس میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ غزوہِ احد کے بیان میں آئے گی۔