المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الزبير رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3980
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : يَا ابْنَ حَوَارِيِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنْ كُنْتَ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ ، وَإِلَّا فَلَا .
3980 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثَنَا يَزِيدُ بِهَذَا .
وَقَالَ : مَا رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا سَعِيدٌ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا يَزِيدُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کسی کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے سنا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ کے حواری (مخلص جاں نثار) کے فرزند!“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا: ”اگر تمہارا تعلق آلِ زبیر (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اولاد) سے ہے تو یہ کہنا بجا ہے، ورنہ اس لقب کا استعمال نہ کرو۔“
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، نیز امام بزار نے احمد بن سنان کے واسطے سے یزید بن ہارون سے اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ ایوب سے اسے صرف سعید بن ابی عروبہ نے اور ان سے صرف یزید بن ہارون نے روایت کیا ہے۔