المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، هُوَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَبَاعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِرْعًا لَهُ ، وَبَعْضَ مَا بَاعَ مِنْ مَتَاعِهِ ، فَبَلَغَ أَرْبَعَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا . وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ ثُلُثَيْهِ فِي الطِّيبِ ، وَثُلُثًا فِي الثِّيَابِ ، وَمَجَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَرَّةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَغْتَسِلُوا بِهِ ، وَأَمَرَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَسْبِقَهُ بِرَضَاعِ وَلَدِهَا ، قَالَ : فَسَبَقَتْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَأَمَّا الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ فِي فِيهِ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، كَانَ أَعْلَمَ الرَّجُلَيْنِ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام پیش کیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زرہ اور اپنا کچھ دیگر سامان فروخت کیا جس کی مالیت چار سو اسی درہم تک پہنچ گئی۔ نبی کریم ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”اس رقم کا دو تہائی حصہ خوشبو کی خریداری میں اور ایک تہائی حصہ لباس کی تیاری میں صرف کیا جائے۔“ نیز نبی کریم ﷺ نے پانی کے ایک گھڑے میں کلی فرمائی اور ان (علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما) کو حکم دیا کہ ”وہ اس پانی سے غسل کریں۔“ اور آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت بھی فرمائی تھی کہ ”وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے میں آپ ﷺ سے پہل نہ کریں (بلکہ آپ ﷺ کی آمد کا انتظار کریں)۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلانے میں آپ ﷺ سے سبقت کر لی تھی، جبکہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے دہنِ مبارک میں کوئی چیز ڈالی تھی، مجھے علم نہیں کہ وہ کیا تھی، اور وہ دونوں (بھائیوں) میں زیادہ علم رکھنے والے تھے۔“
[تخريج: مسند أبي يعلى: 3961، اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں سوائے منذر بن ثعلبہ کے جو کہ صدوق ہیں]۔