المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ هُوَ ابْنُ فَرُّوخَ ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَنْهَضْ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى كُفْئِهِ ، وَنَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاعْتَنَقَهُ ، وَقَالَ : " أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَصَحَّحَهُ ، وَذَهَلَ عَنْ ضَعْفِ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ ; فَإِنَّهُ مَتْرُوكٌ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک مکان میں مہاجرین کی ایک جماعت کی معیت میں موجود تھے، جس میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے ہم پلہ (اپنے جوڑ کے ساتھی) کی طرف اٹھ کر جائے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب اٹھے اور انہیں گلے لگا لیا اور فرمایا: «أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ”آپ دنیا اور آخرت میں میرے رفیق و مددگار ہیں۔“
اسے امام حاکم نے مستدرک میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے طلحہ بن زید کے ضعف سے غفلت برتی ہے، کیونکہ وہ متروک راوی ہے۔