المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ مَا اختص بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأنبياء عَلَيْهِمْ الصَّلَاةِ والسلام باب: نبی کریم ﷺ کی دیگر انبیاء علیہم السلام پر خصوصی فضیلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3853
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنْتَ سَيِّدُ الْعَرَبِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، آدَمُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ .
* وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ أَيْضًا .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ عرب کے سردار ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور (یہ بیان کرنا) کوئی فخر کی بات نہیں ہے، بلکہ آدم (علیہ السلام بھی قیامت کے دن) میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ کہنا بھی بطورِ فخر نہیں۔“
اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔