المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ طيب عرقه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے پسینے کی خوشبو کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ سَيْحَانَ ، ثَنَا حَلْبَسُ بْنُ غَالِبٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي بِشَيْءٍ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ غَدَاةُ غَدٍ فَأْتِنِي بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ ، وَعُودِ شَجَرَةٍ ، وَإِنَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنْ تَدُقَّ نَاحِيَةَ الْبَابِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ ، وَعُودِ شَجَرَةٍ ، فَجَعَلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْلُتُ الْعَرَقَ مِنْ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَتِ الْقَارُورَةُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْهَا ، وَمُرْ بِنْتَكَ أَنْ تَغْمِسَ هَذَا الْعُودَ فِي الْقَارُورَةِ ، وَتَطَيَّبَ بِهِ ، فَقَالَ : فَكَانَتْ إِذَا تَطَيَّبَتْ بِهِ شَمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ رَائِحَةَ ذَلِكَ الطِّيبِ ، فَسُمُّوا بُيُوتَ الْمُطَيَّبِينَ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ہے اور میری دلی تمنا ہے کہ آپ کسی چیز کے ذریعے میری مدد فرمائیں“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت میرے پاس (دینے کو) کچھ نہیں ہے، لیکن تم ایسا کرنا کہ کل صبح میرے پاس چوڑے منہ والی ایک شیشی اور درخت کی ایک ٹہنی لے کر آنا، اور تمہارے اور میرے درمیان یہ طے ہے کہ تم (آ کر) دروازے کے ایک گوشے کو کھٹکھٹانا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ شخص آپ ﷺ کی خدمت میں چوڑے منہ والی شیشی اور درخت کی ٹہنی لے کر حاضر ہوا، تو آپ ﷺ اپنے بازوؤں مبارک سے پسینہ مبارک پونچھ کر اس شیشی میں ڈالنے لگے یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اپنی بیٹی کو حکم دو کہ وہ اس ٹہنی کو شیشی میں ڈبو کر اسے بطور خوشبو استعمال کرے“، راوی کہتے ہیں کہ وہ لڑکی جب بھی وہ خوشبو لگاتی تھی تو اہل مدینہ اس کی خوشبو محسوس کرتے تھے، چنانچہ ان کے گھرانوں کا نام ہی ”خوشبو والے گھر“ یعنی «بُيُوتَ الْمُطَيَّبِينَ» پڑ گیا۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 3833) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حلبس بن غالب نامی راوی کی وجہ سے کلام ہے، البتہ رسول اللہ ﷺ کے پسینہ مبارک کا معطر ہونا اور اسے تبرک کے طور پر استعمال کرنا صحیحین کی دیگر مستند روایات سے ثابت ہے۔