المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الرُّومِ باب: سورہ الروم۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، ثَنَا الْمُؤَمَّلُ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الأَرْضِ - الْآيَةَ ، لَقِيَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَى إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّ الرُّومَ سَتَغْلِبُ فَارِسَ ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَهَلْ نُبَايِعُكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا فَعَلْتُهُ إِلَّا تَصْدِيقًا لِلهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَتَعَرَّضْ لَهُمْ ، وَأَعْظِمْ لَهُمُ الْخَطَرَ ، وَاجْعَلْهُ إِلَى بِضْعِ سِنِينَ ، فَإِنَّهُ إِنْ تَمْضِي السُّنُونَ حَتَّى تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ قَالَ : فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : فَهَلْ لَكَمَ فِي الْعَوْدِ ; فَإِنَّ الْعَوْدَ أَحْمَدُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَبَايَعُوهُ ، وَأَعْظَمُوا الْخَطَرَ .
فَلَمْ تَمْضِ السُّنُونَ حَتَّى ظَهَرَتِ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ ، فَأَخَذَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - الْخَطَرَ ، وَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا لِلنَّجَائِبِ .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ﴾ [سورة الروم: 1-3] نازل ہوا، تو مکہ کے کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے: ”کیا آپ اپنے صاحب (یعنی نبی کریم ﷺ) کی بات پر غور نہیں کرتے؟ ان کا دعویٰ ہے کہ عنقریب رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں گے“، جس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بالکل سچ فرمایا ہے“، ان لوگوں نے کہا: ”تو کیا اس بات پر آپ ہم سے شرط لگاتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہارا اس (شرط لگانے) سے کیا ارادہ تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے یہ عمل محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق و تائید کی خاطر کیا ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور شرط کی رقم (داؤ) کو بڑھا دو اور اس کی مدت 'بضع سنین' (یعنی تین سے نو سال کے درمیان) مقرر کر دو، کیونکہ یہ سال بیتنے سے پہلے رومی ضرور اہل فارس پر غلبہ پا لیں گے“، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم دوبارہ شرط لگانے میں دلچسپی رکھتے ہو؟ کیونکہ دوبارہ رجوع کرنا زیادہ بہتر ہے“، انہوں نے کہا: ”ہاں“، پھر انہوں نے آپ کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا اور شرط کی رقم میں اضافہ کر دیا
ابھی وہ مقررہ سال ختم نہیں ہوئے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ گئے، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شرط کی رقم وصول کی اور اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ (رقم) بہترین اور عمدہ نسل کے سواری والے اونٹوں کے لیے ہے“۔