❮
❯
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : دَخَلَ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِصْرَ وَهُمْ ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ إِنْسَانًا ، وَخَرَجُوا مِنْهَا وَهُمْ سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ ، فَقَالَ فِرْعَوْنُ : إِنَّ هَؤُلاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو ان کی کل تعداد محض تہتر (73) نفوس پر مشتمل تھی، اور جب وہ وہاں سے (ہجرت کر کے) نکلے تو ان کی تعداد بڑھ کر چھ لاکھ ہو چکی تھی، تب (ان کی اس کثرت کے باوجود تحقیر کرتے ہوئے) فرعون نے کہا تھا: ﴿إِنَّ هَؤُلَاء لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ﴾ [سورة الشعراء: 54] ”یقیناً یہ ایک مختصر سی جماعت ہے“۔“
اس اثر کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک راوی مبہم (نا معلوم) ہے، نیز المسعودی نامی راوی عمر کے آخری حصے میں اختلاط (یادداشت کی کمزوری) کا شکار ہو گئے تھے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4113، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9068»