المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْكَهْفِ باب: سورۂ کہف۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ . ثُمَّ الصَّيْدَاوِيُّ ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ : أَنَّهُ مَنْ قَالَ : فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا كَانَ لَهُ نُورٌ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ إِلَى مَكَّةَ ، حَشْوُهُ الْمَلَائِكَةُ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جس کسی نے (سورہ کہف کی یہ آیت) ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [سورة الكهف: 110] تلاوت کی، تو اس کے لیے ’عدنِ ابین‘ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی مسافت کے برابر ایک ایسا نور روشن کر دیا جائے گا جو فرشتوں سے معمور (بھرا ہوا) ہوگا۔“
اس حدیث کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے، جس کی سند میں نضر بن شمیل نے ابو قرہ اسدی صیداوی سے اور انہوں نے سعید بن مسیب کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے۔