المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ باب: سورہ آلِ عمران۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : كَانَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ أَسْلَمَ ، ثُمَّ لَحِقَ بِقَوْمِهِ وَكَفَرَ ; فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ : كَيْفَ يَهْدِي اللهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ ( إِلَى آخِرِ ) الْآيَةِ .
قَالَ : فَحَمَلَهُنَّ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الْحَارِثُ : وَاللهِ إِنَّكَ مَا عَلِمْتُ لَصَدُوقٌ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَصْدَقُ مِنْكَ ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى لَأَصْدَقُ الثَّلَاثَةِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَسْلَمَ إِسْلَامًا حَسَنًا .سیدنا مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حارث بن سوید پہلے اسلام لائے، پھر وہ (مرتد ہو کر) اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور کفر اختیار کر لیا؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ﴾ [سورة آل عمران: 86]۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ حارث کی قوم کے ایک شخص نے ان آیات کو ان تک پہنچایا اور انہیں پڑھ کر سنایا، تو حارث نے (ان آیات کو سن کر) کہا: ”اللہ کی قسم! جہاں تک میرا علم ہے، تم یقیناً سچے ہو، اور اللہ کے رسول ﷺ تم سے بھی زیادہ سچے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان تینوں میں سب سے بڑھ کر سچا ہے“، پھر وہ واپس پلٹ آئے اور نہایت عمدگی و اخلاص کے ساتھ دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔