المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ لِغَيْرِ صَلَاةٍ فِيهَا باب: نماز کے علاوہ کسی مقصد کے لیے مسجد بنانے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مَرَّ قَبْلَ الطَّاعُونِ الْجَارِفِ ، فَجَعَلَ يَمُرُّ بِالْمَسْجِدِ قَدْ أُحْدِثَ فَيَسْأَلُ عَنْهُ . فَيَقُولُ : هَذَا مَسْجِدٌ أَحْدَثَهُ بَنُو فُلَانٍ .
فَقَالَ : كَانَ يُقَالُ : ( يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَبْنُونَ الْمَسَاجِدَ [يَتَبَاهَوْنَ] بِهَا ، ثُمَّ لَا يَعْمُرُونَهَا إِلَّا قَلِيلًا ) .
قَالَ أَيُّوبُ : فَجَاءَ الْجَارِفُ فَجَرَفَهُمْ .
عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ طاعونِ جارف (بستیوں کا صفایا کر دینے والی ہلاکت خیز وبا) کے آنے سے قبل وہ کسی ایسی مسجد کے پاس سے گزرتے جو نئی تعمیر کی گئی ہوتی تو اس کے متعلق دریافت فرماتے، لوگ بتاتے کہ یہ وہ مسجد ہے جسے فلاں قبیلے نے حال ہی میں تعمیر کیا ہے۔
اس پر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بات کہی جاتی تھی: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں گے اور ان پر فخر و نمائش کریں گے، پھر وہ انہیں (ذکر و عبادت کے ذریعے) بہت ہی کم آباد کریں گے“۔
ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ”پھر وہ سب کچھ بہا لے جانے والا طاعون آیا اور ان سب کو مٹا کر رکھ دیا“۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے تعلیقاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت مرفوعاً بھی مروی ہے۔