المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ ثُمَّ يَقُولُ : لَعِبْتُ ، وَيُعْتِقُ ثُمَّ يَقُولُ : لَعِبْتُ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا الْآيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَلَّقَ أَوْ عَتَقَ فَقَالَ : لَعِبْتُ فَلَيْسَ قَوْلُهُ بِشَيْءٍ يَقَعُ عَلَيْهِ وَيَلْزَمُهُ "
قَالَ سُفْيَانُ : يَقُولُ يَلْزَمُهُ الشَّيْءُ .سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (زمانہ جاہلیت میں) کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا اور پھر کہتا کہ ”میں تو محض دل لگی اور مذاق کر رہا تھا“، یا غلام آزاد کر دیتا اور پھر کہتا کہ ”میں تو محض کھیل رہا تھا“، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 231] ”اور تم اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے طلاق دی یا غلام آزاد کیا اور پھر (اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے) یہ کہہ دیا کہ ”میں تو ہنسی مذاق کر رہا تھا“ تو اس کا یہ کہنا لغو ہے اور اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، بلکہ وہ طلاق یا آزادی اس پر واقع ہو جائے گی اور اس پر شرعاً لازم ہو جائے گی۔“
سفیان (راوی) نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل (طلاق یا آزادی) اس پر ہر صورت لازم ہو جائے گا۔