المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
باب (أحاديث 3512–3514) باب: (احادیث 3512 تا 3514)
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ فِي أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ ..سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ خبر پہنچی یا انہوں نے براہِ راست ان سے یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآنِ مجید کی تلاوت تو کریں گے لیکن وہ اسے ردی اور ادنیٰ درجے کی خشک کھجوروں کی طرح (بغیر تدبر و تفکر اور انتہائی عجلت کے ساتھ) بکھیر دیں گے، اور وہ قرآن کی ایسی من مانی تشریح و تاویل کریں گے جو اس کے اصل اور حقیقی مفہوم کے بالکل برعکس ہوگی۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (3031) میں روایت کیا ہے اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔