❮
❯
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ فِي أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ ..
ترجمہ

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ خبر پہنچی یا انہوں نے براہِ راست ان سے یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآنِ مجید کی تلاوت تو کریں گے لیکن وہ اسے ردی اور ادنیٰ درجے کی خشک کھجوروں کی طرح (بغیر تدبر و تفکر اور انتہائی عجلت کے ساتھ) بکھیر دیں گے، اور وہ قرآن کی ایسی من مانی تشریح و تاویل کریں گے جو اس کے اصل اور حقیقی مفہوم کے بالکل برعکس ہوگی۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (3031) میں روایت کیا ہے اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3514
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 4710، 4756، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 822، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 602، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1004، 1005، 1006، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1396، وأخرجه مسند أحمد برقم: 3596، 3948، 4052، 4143، 4337، 4396، وأخرجه فتح الباري برقم: 742، وأخرجه مسند البزار برقم: 1566، 1567، 1715، 1749، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9855، 9857، 9858، 9859، 9860، 9863، 9864، 9865، 9866، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1998، 5807، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 2035، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5990»