المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ مَا كان فِي بَنِي إسرائيل باب: بنی اسرائیل میں پیش آنے والے احوال و واقعات کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " دَعَا نَبِيٌّ عَلَى أُمَّتِهِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتُحِبُّ أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمُ الْجُوعَ قَالَ : لَا . قِيلَ لَهُ : أَتُحِبُّ أَنْ أُلْقِيَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الطَّاعُونُ مَوْتًا دَقِيقًا ، يَحْرِقُ الْقُلُوبَ ، وَيُقِلُّ الْعَدَدَ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ایک نبی نے اپنی امت کے خلاف (ان کی سرکشی پر) بددعا کی، تو ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) دریافت کیا گیا: کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ میں ان پر بھوک و افلاس مسلط کر دوں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ پھر ان سے پوچھا گیا: کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ میں ان کی لڑائی ان کے اپنے درمیان ہی ڈال دوں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ چنانچہ ان پر طاعون مسلط کر دیا گیا جو کہ ایک باریک (دبے پاؤں آنے والی اچانک اور کثرت سے ہونے والی) موت ہے، یہ دلوں کو تڑپا کر جلا دیتی ہے اور (لوگوں کی) تعداد کو کم کر دیتی ہے“۔
تخریج و تحکیم: اس اثر کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (451) میں اور امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (35591) میں روایت کیا ہے، اس کی سند حسن درجے کی ہے۔