المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ التَّكْبِيرِ باب: تکبیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وَقَعَتْ كَبِيرَةٌ أَوْ هَاجَتْ رِيحٌ مُظْلِمَةٌ فَعَلَيْكُمْ بِالتَّكْبِيرِ ، فَإِنَّهُ يُجَلِّي الْعَجَاجَ الْأَسْوَدَ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی بڑی آفت یا سنگین حادثہ پیش آئے یا پھر اندھیر مچا دینے والی کالی آندھی چلے تو تم پر لازم ہے کہ اللہ کی کبریائی بیان کرو (تکبیر کہو)، کیونکہ بلاشبہ اللہ اکبر کہنا اس سیاہ گرد و غبار اور چھائے ہوئے اندھیرے کو چھانٹ کر دور کر دیتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: امام طبرانی نے اسے المعجم الأوسط (3414) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن زاذان دونوں ہی ضعیف اور منکر الحدیث ہیں۔