المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالاسترجاع فِي كُلِّ شَيْءٌ وسؤال اللَّهُ عز وجل كُلِّ شَيْءٌ باب: ہر معاملے میں استرجاع اور اللہ تعالیٰ سے ہر چیز مانگنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَسْتَرْجِعْ أَحَدُكُمْ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي شِسْعِ نَعْلِهِ ، فَإِنَّهُ مِنَ الْمَصَائِبِ " .
3357 \ 2 - وَحَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَصَائِبِ ، وَسَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى الشِّسْعَ ، فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يُيَسِّرْهُ لَمْ يَكُنْ " .
3357 \ 3 - حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، بِهَذَا .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ ہر (تکلیف دہ) چیز پر کلمہ استرجاع یعنی «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ پڑھے، یہاں تک کہ اپنے جوتے کے تسمے کے ٹوٹ جانے پر بھی، کیونکہ یہ بھی مصائب و پریشانیوں میں سے ہے۔“
ایک اور سند میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ کلمہ استرجاع پڑھے کیونکہ یہ بھی مصیبتوں میں سے ہے، اور تم اللہ عزوجل ہی سے سوال کیا کرو یہاں تک کہ جوتے کے تسمے کا بھی، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ (اللہ تعالیٰ) اسے آسان و میسر نہ کرے تو وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔“
امام خالد نے بھی یحییٰ بن عبید اللہ کے واسطے سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔