المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ باب: دعا کی فضیلت اور اس کی اہمیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3338
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَمَلُ الْبِرِّ كُلُّهِ نِصْفُ الْعِبَادَةِ ، وَالدُّعَاءُ نِصْفٌ ، فَإِذَا أَرَادَ اللهُ تَعَالَى بِعَبْدٍ خَيْرًا انْتَحَى قَلْبُهُ لِلدُّعَاءِ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اور بھلائی کے تمام تر کام مجموعی طور پر عبادت کا نصف حصہ ہیں، جبکہ دعا باقی ماندہ نصف حصہ ہے؛ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اس کے دل کو اپنی بارگاہ میں دعا و مناجات کے لیے مائل اور یکسو کر دیتا ہے۔“
یہ روایت امام احمد بن منیع نے نقل کی ہے، تاہم اس کی سند میں محمد بن الحسن بن ابی یزید الہمدانی کذاب اور متروک ہے، جبکہ بكر بن خنیس بھی ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف ہے۔