المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الصمت باب: خاموشی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3236
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْحَنَفِيُّ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لِيُضْحِكَ بِهَا مَنْ حَوْلَهُ ، وَلَقَدْ جَاءَتْ أَكْثَرَ مِنْ عُكَاظَ وَمَا يَشْعُرُ " .
3236 \ 2 - حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ کوئی آدمی محض اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ہنسانے کے لیے کوئی بات زبان سے نکالتا ہے، حالانکہ (اپنے وبال اور ہلاکت خیزی میں) وہ بات عکاظ (کے وسیع وعریض میدان) کے فاصلے سے بھی کہیں زیادہ دور جا پڑتی ہے اور اسے اس ہلاکت خیزی کا احساس تک نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کو ابن ابی عمر نے حنفی سے، اور حسین الجعفی نے زائدہ سے، دونوں نے ہجری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔