المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ أحب لقاء اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ فِي جِنَازَةٍ ، وَذَلِكَ أَوَّلَ يَوْمٍ عَرَفْتُهُ فِيهِ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : ثَنَا فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبَّ اللهُ تَعَالَى لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ تَعَالَى كَرِهَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِقَاءَهُ " . فَبَكَى الْقَوْمُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ وَأَيُّنَا لَا يَكْرَهُ الْمَوْتَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتُ ذَلِكَ أَعْنِي ، وَلَكِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ : فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ ذَلِكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ تَعَالَى ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلِقَائِهِ أَحَبُّ ، وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ فَنُـزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ تَعَالَى ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلِقَائِهِ أَكْرَهُ " .ایک صحابیِ رسول ﷺ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ عزوجل سے ملاقات کو محبوب رکھا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی ملاقات کو محبوب رکھا، اور جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کیا، اللہ عزوجل نے بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرمایا۔“ یہ سن کر لوگ رونے لگے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم میں سے بھلا کون ایسا ہے جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا وہ مطلب نہیں (جو تم سمجھ رہے ہو)، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ﴾ [سورة الواقعة: 88-89] ”پس اگر وہ (مرنے والا) اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہو، تو (اس کے لیے) راحت، خوشبو اور نعمتوں والی جنت ہے“۔ پس جب وہ اس حالتِ نزع میں ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھنے لگتا ہے، اور اللہ عزوجل اس کی ملاقات کو اس سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہے۔ (اور اس کے برعکس) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ﴾ [سورة الواقعة: 92-93] ”اور اگر وہ (حق کو) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو، تو اس کی مہمانی کھولتے ہوئے گرم پانی سے ہو گی“۔ چنانچہ جب وہ اس حالت میں ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اور اللہ عزوجل اس کی ملاقات کو اس سے بھی زیادہ ناپسند فرماتا ہے۔“
[أخرجه أحمد: 18146، والنسائي في الكبرى: 10928، وصححه الألباني]۔