❮
❯
حدیث نمبر: 3209
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ : إِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ اطَّلَعَ مَلَكٌ ، فَقَالَ : سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ ، ثُمَّ يَطَّلِعُ مَلَكٌ آخَرُ فَيَقُولُ : سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تُحَرِّكُ الطَّيْرُ أَجْنِحَتَهَا ، ثُمَّ يَطَّلِعُ مَلَكٌ آخَرُ فَيَقُولُ : يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ ، ثُمَّ يَطَّلِعُ مَلَكٌ آخَرُ يَقُولُ : يَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، ثُمَّ يَطَّلِعُ آخَرُ فَيَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا ، ثُمَّ يَطَّلِعُ آخَرُ ، فَيَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا .
ترجمہ

عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”جب آدھی رات کا وقت ہوتا ہے تو ایک فرشتہ ظاہر ہوتا ہے اور پکارتا ہے: «سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ» یعنی ”تم سب حقیقی بادشاہ اور نہایت مقدس ہستی کی تسبیح و پاکیزگی بیان کرو“، پھر ایک دوسرا فرشتہ ظاہر ہوتا ہے اور وہ بھی یہی کہتا ہے: «سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ» ”تم سب بادشاہ اور نہایت مقدس کی تسبیح بیان کرو“، اس وقت (فرشتوں کی تسبیح سن کر) پرندے اپنے پروں کو حرکت دیتے ہیں، پھر ایک اور فرشتہ نمودار ہوتا ہے اور پکارتا ہے: «يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ» ”اے خیر و بھلائی کے طلبگار! آگے بڑھ اور متوجہ ہو“، پھر ایک دوسرا فرشتہ ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے: «يَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ» ”اے شر و برائی کے طلبگار! (اپنے نفس کو) روک لے اور باز آ جا“، پھر ایک اور فرشتہ نمودار ہو کر التجا کرتا ہے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا» ”اے اللہ! تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کا بہترین نعم البدل عطا فرما“، پھر ایک اور فرشتہ ظاہر ہوتا ہے اور پکارتا ہے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا» ”اے اللہ! مال کو روک کر رکھنے والے اور بخل کرنے والے کے لیے ہلاکت و بربادی مقدر فرما“۔“
اس اثر کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت حکماً مرفوع کے درجے میں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»