المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي طَلَبِ العلم والحث عَلَيْهِ باب: طلبِ علم کی رغبت دلانے اور اس کے حصول پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3093
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ الْخَلِيلَ بْنَ مُرَّةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ مُبَشِّرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فُضِّلَ الْعَالِمُ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک عالمِ دین کو محض عبادت گزار پر ستر درجوں کی برتری و فضیلت حاصل ہے، اور ان میں سے ہر دو درجوں کے مابین اتنی مسافت ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں خلیل بن مرہ اور مبشر جیسے راویوں کی وجہ سے محدثین کے ہاں اس کی استنادی حیثیت پر کلام موجود ہے۔