المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الأخذ بالسنة باب: سنتِ مطہرہ کو مضبوطی سے تھامنے اور اسے اختیار کرنے کی ترغیب و تشویق کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ - عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِينَ وَقَعُوا إِلَى الشَّامِ قَالَ : وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً مَرِضَتْ مِنْهَا الْجُلُودُ ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا : كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ وَدَاعٍ يَا رَسُولَ اللهِ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا ؟
فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تَتَّقُوا اللهَ تَعَالَى ، وَأَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتِي وَسُنَّةَ الْخُلَفَاءِ الْهَادِيَةَ الْمَهْدِيَّةَ مِنْ بَعْدِي ، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ .
3074 \ 2 - حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ حَدَّثَهُ قَالَ : خَطَبَنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً فَذَكَرَ نَحْوَهُ .شام میں مقیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسی جامع اور موثر نصیحت فرمائی جس کی ہیبت سے کھالیں لرز اٹھیں، آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل خوفِ خدا سے دہل گئے، تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی الوداع کہنے والے کی نصیحت ہے، پس آپ ہمیں کس بات کی وصیت و تاکید فرماتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، اور میرے بعد میری سنت اور ہدایت یافتہ و راہِ راست پر گامزن خلفاء کی سنت کی پیروی کرو، اور اس (سنت) کو اپنی داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لو، کیونکہ دین میں پیدا کی گئی ہر نئی بات یعنی بدعت سراسر گمراہی ہے۔“
اس روایت کو امام حارث نے سعید بن عامر کے واسطے سے اور امام عفان نے ابوالاشہب کے واسطے سے سعید بن خثیم سے نقل کیا ہے، جس میں ایک شامی شخص نے ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کے مثل تذکرہ کیا ہے۔