المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تفسير الكبائر باب: کبیرہ گناہوں کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ غَشَّ امْرَأً فِي أَهْلِهِ ، أَوْ خَادِمِهِ ، فَلَيْسَ مِنَّا .ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے کسی شخص کو اس کے گھر والوں (یعنی اس کی بیوی) یا اس کے خادم کے معاملے میں دھوکا دیا (اور انہیں اس کے خلاف اکسا کر یا بہلا پھسلا کر بگاڑ دیا)، تو اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر علامہ البانیؒ اور دیگر محققین نے اس کے مفہوم کو صحیح قرار دیا ہے۔