المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تفسير الكبائر باب: کبیرہ گناہوں کی تشریح کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الزَّانِيَ ، وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ ؟ قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : هُنَّ فَوَاحِشُ ، وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْإِشْرَاكُ بِاللهِ ، قَالَ اللهُ تَعَالَى : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ : اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ ، وَقَالَ : أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) دریافت فرمایا: ”جب تم کسی زانی اور شراب نوشی کرنے والے کو دیکھتے ہو تو ان کے متعلق کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ افعال سراسر بے حیائی کے کام ہیں اور ان میں (شرعی) سزا مقرر ہے، کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْإِشْرَاكُ بِاللهِ» اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا﴾ [سورة النساء: 48] اور «عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» والدین کی نافرمانی کرنا، پھر اللہ عزوجل نے (اپنے شکر کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہوئے) فرمایا ہے: ﴿أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ﴾ [سورة لقمان: 14]۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر آپ ﷺ (بات کی سنگینی جتانے کے لیے) سنبھل کر بیٹھ گئے اور بار بار متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! «قَوْلُ الزُّورِ» جھوٹی بات کہنا، آگاہ رہو! جھوٹ بولنا (بھی سب سے بڑے گناہوں میں شامل ہے)۔“
اس حدیث کو امام الحارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 699) میں روایت کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع نہ ہونے کی وجہ سے یہ سنداً منقطع ہے، تاہم حدیث کا متن دیگر صحیح شواہد کی بنا پر مستند ہے۔