المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: ان اوقات کا بیان جن میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا رَأَى أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، [صَلَّى] وَقَدِ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ، تَنْهَوْنَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ ؟ !
قَالَ : أَجَلْ ، إِلَّا أَنَّ هَذَا الْبَيْتَ لَيْسَ كَغَيْرِهِ .ابوزبیر رحمہ اللہ ایک شخص کے واسطے سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے انہیں اس وقت نماز پڑھتے دیکھا جب «اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ» ”سورج زرد پڑ چکا تھا“، تو اس شخص نے (تعجب سے) کہا: ”اے اصحابِ محمد ﷺ! کیا آپ لوگ فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع نہیں کرتے؟!“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں (منع کرتے ہیں)، مگر «هَذَا الْبَيْتَ» ”یہ گھر (بیت اللہ)“ دیگر مقامات جیسا نہیں ہے۔“
اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہاں اوقاتِ مکروہہ میں بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے۔