المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ علامات الإيمان باب: ایمان کی علامات و نشانات کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : حِينَ سَأَلَهُ مَا الْإِيمَانُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : أَتُحِبُّ أَنْ أُخْبِرَكَ مَا صَرِيحُ الْإِيمَانِ ؟ قَالَ : ذَلِكَ أَرَدْتُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَرِيحُ الْإِيمَانِ إِذَا أَسَأْتَ ، أَوْ ظَلَمْتَ أَحَدًا : عَبْدَكَ ، أَوْ أَمَتَكَ ، أَوْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، تَصَدَّقْتَ وَصُمْتَ ، وَإِذَا أَحْسَنْتَ اسْتَبْشَرْتَ .ابن ابی رافع ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب اس شخص نے آپ ﷺ سے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔“ اس نے دوسری مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے پھر وہی جواب ارشاد فرمایا، پھر جب اس نے تیسری بار یہی سوال دہرایا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں کہ ایمان کی حقیقت اور اس کا صریح ہونا کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں! میں یہی چاہتا تھا۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایمان کا صریح اور واضح ہونا یہ ہے کہ جب تم سے کوئی برائی سرزد ہو جائے یا تم کسی پر ظلم کر بیٹھو، خواہ وہ تمہارا غلام ہو، تمہاری لونڈی ہو یا عام مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص ہو، تو تم (بطورِ کفارہ) صدقہ کرو اور روزہ رکھو، اور جب تم کوئی نیک عمل کرو تو اس پر (اللہ کی توفیق سمجھتے ہوئے) خوشی و مسرت محسوس کرو۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے مسند الحارث (بغیۃ الباحث) میں روایت کیا ہے۔