المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تعريف الإسلام والإيمان باب: اسلام اور ایمان کی تعریف و حقیقت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، قِيلَ : فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ ، قِيلَ : فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرُ إِيمَانًا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا قِيلَ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ نُحِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ . قِيلَ : فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طُولُ الْقُنُوتِ ، قِيلَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جُهْدُ الْمُقِلِّ ، قِيلَ : فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْ تَهْجُرَ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْكَ أَخْرَجُوهُ مُخْتَصَرًا .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سا اسلام (یعنی مسلمان کا عمل) سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس مسلمان کی زبان اور ہاتھ کی اذیت سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ دریافت کیا گیا: پھر کون سا ایمان سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کرنا اور فیاضی و درگزر سے کام لینا۔“ عرض کیا گیا: تو مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے کون سب سے زیادہ کامل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔“ پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس میں (مجاہد کے) گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور اس کا اپنا خون بھی (راہِ خدا میں) بہا دیا جائے۔“ عرض کیا گیا: پھر کون سی نماز سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا قیام طویل ہو۔“ عرض کیا گیا: پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کم مال والے کی وہ محنت و مشقت کی کمائی جو وہ اپنی تنگی کے باوجود (خلوص سے) پیش کرے۔“ عرض کیا گیا: پھر کون سی ہجرت سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم ان تمام کاموں کو ترک کر دو جنہیں اللہ نے تم پر حرام قرار دیا ہے“
ائمہ حدیث نے اسے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔