المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ كلمة لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: کلمۂ «لا إله إلا الله» کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تَمْنَعُ الْعَبْدَ مِنْ سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ يُؤْثِرُوا شَفَقَةَ دُنْيَاهُمْ عَلَى دِينِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ثُمَّ قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : كَذَبْتُمْ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کلمہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ بندے کو اللہ عزوجل کی ناراضی اور غصے سے اس وقت تک محفوظ رکھتا ہے جب تک کہ لوگ اپنی دنیاوی مفادات اور اس کی محبت کو اپنے دین پر ترجیح نہ دینے لگیں، پس جب وہ ایسا کرنے لگیں (کہ دنیا کو دین پر مقدم کر لیں) اور پھر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہیں تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”تم نے جھوٹ کہا ہے۔““
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان (2866) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عمر بن حمزہ نامی راوی کی وجہ سے ضعف موجود ہے۔