المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ دعوى الجاهلية والمفاخرة والتعيير بالآباء باب: جاہلیت کی پکار، فخر اور آباء کے ذریعے عار دلانے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَيَانِ : حَبَشِيٌّ ، وَنَبَطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ . فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : يَا نَبَطِيُّ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا حَبَشِيُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُولَا هَذَا ، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو آزاد کردہ غلام تھے، جن میں سے ایک حبشی اور دوسرا نبطی تھا؛ ان دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا اور آپس میں گالی گلوچ کی جبکہ نبی کریم ﷺ ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے (بطورِ طعن) کہا: ”اے نبطی!“ اور دوسرے نے (جواب میں) کہا: ”اے حبشی!“ تو اس پر نبی کریم ﷺ نے (انہیں اس نسلی امتیاز سے روکتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم دونوں اس طرح کے کلمات مت کہو، حقیقت تو یہ ہے کہ تم دونوں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے دو مرد ہو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (2735) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی یزید بن ابی زیاد کو محدثین نے حافظے کی خرابی کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے۔