المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ تتبع العورات باب: دوسروں کے عیوب کی ٹوہ میں رہنے اور ان کی پردہ پوشیدہ باتوں کی جستجو کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2733
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَرَى امْرُؤٌ مِنْ أَخِيهِ عَوْرَةً فَيَسْتُرُهَا عَلَيْهِ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص جو اپنے کسی (مسلمان) بھائی کا کوئی عیب یا پردہ پوشی کے لائق بات دیکھ لے اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے (یعنی اسے افشا کر کے اسے رسوا نہ کرے) تو اللہ تعالیٰ (اس نیک خصلت کے صلے میں) اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔“
امام عبد بن حمید کی روایت کردہ اس حدیث کی سند میں خالد بن الیاس نامی راوی ضعیف ہے، تاہم دیگر مستند اور صحیح احادیث سے مسلمان کے عیوب کی پردہ پوشی کی فضیلت اور اجر ثابت ہے۔