المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الفحش باب: فحش گوئی اور بے حیائی کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، ( ح ) ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : لَقِسَتْ نَفْسِي " .
قُلْتُ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ عَنْ قُتَيْبَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ وَغَيْرُهُمَا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ ، وَأَبُو أُمَامَةَ لَهُ رُؤْيَةٌ وَرِوَايَةٌ ، وَلِأَبِيهِ صُحْبَةٌ ، وَتَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْحَيَاءِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْبَابِ .سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ نہ کہے: «خَبُثَتْ نَفْسِي» ”میرا جی خبیث (یا گندہ) ہو گیا ہے“، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ یوں کہے: «لَقِسَتْ نَفْسِي» ”میری طبیعت مکدر ہو گئی ہے (یا میرا جی متلا رہا ہے)“۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں: یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام نسائی نے 'الیوم واللیلہ' میں قتیبہ کے واسطے سے سفیان سے روایت کیا ہے، جبکہ شیخین (بخاری و مسلم) اور دیگر محدثین نے اسے یونس بن یزید عن الزہری کے طریق سے، ابو امامہ بن سہل کے واسطے سے ان کے والد (سیدنا سہل بن حنیف) رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں ہی روایتیں صحیح ہیں۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ رؤیت (زیارتِ نبوی) اور روایت کے حامل ہیں، اور ان کے والد صحابی ہیں، اور حیا کی فضیلت کے بیان میں اس باب سے متعلق کچھ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔