المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ مِنْ دعا صاحبه فأجاب بلبيك باب: ساتھی کے پکارنے پر «لبیک» کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2709
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جُبَارَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، كُلَّ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ : " لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو (توجہ حاصل کرنے کے لیے) تین مرتبہ پکارا، اور آپ ﷺ ہر بار کمالِ شفقت اور حسنِ اخلاق سے اسے جواب دیتے ہوئے یہی ارشاد فرماتے رہے: «لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ» ”میں تمہاری خدمت میں حاضر ہوں، میں تمہاری پکار پر حاضر ہوں“۔
مسند ابویعلیٰ: 2709، اس کی سند میں موجود راوی جبارہ بن مغلس ضعیف ہے۔