المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الالتزام والمعانقة والمصافحة باب: ایک دوسرے کو سینے سے لگانے، معانقہ کرنے اور مصافحہ کرنے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2703
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ الْعَنَزِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ نَائِمًا ، فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَالْتَزَمَنِي " .ترجمہ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرضِ وفات میں میری طرف پیغام بھیج کر مجھے بلوایا، پس میں آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو آرام فرماتے ہوئے پایا، چنانچہ میں (محبت و عقیدت میں) آپ ﷺ کے اوپر جھک گیا، تو نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک اٹھائے اور مجھے گلے لگا لیا (میرا معانقہ فرمایا)۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے۔