المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ السلام باب: سلام کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ ، وَلَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى طَعَامٍ حَتَّى يُسَلِّمَ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سلام گفتگو کرنے سے مقدم ہے، اور تم کسی شخص کو کھانے کی دعوت اس وقت تک نہ دو جب تک کہ وہ سلام نہ کر لے۔“
اس روایت کو امام ترمذی نے اپنی جامع میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عنبسہ بن عبد الرحمن نامی راوی متروک اور سخت ضعیف ہے، جس کی بنا پر محدثین نے اس حدیث کو سندا ً ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے، اگرچہ سلام کی اہمیت کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث موجود ہیں۔