المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إماطة الأذى عَنْ الطريق باب: راستے سے ہر قسم کی موذی اور تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی فضیلت و اہمیت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِنَا بِهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُؤْجَرُ فِي إِمَاطَتِهِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَفِي هِدَايَتِهِ السَّبِيلَ ، وَفِي تَعْبِيرِهِ عَنِ الْأَرْثَمِ ، وَفِي مَنِيحَةِ اللَّبَنِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ مَصْرُورَةً فِي ثَوْبِهِ ، فَيَلْمَسُهَا ، فَتُخْطِئُهَا يَدُهُ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک ایسی حدیث بیان فرمائی کہ ہمیں اسلام قبول کرنے کے بعد کسی بھی بات پر اتنی زیادہ خوشی نہیں ہوئی جتنی اس فرمانِ نبوی کو سن کر ہوئی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن کو راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے پر اجر دیا جاتا ہے، کسی کو راستہ بتا دینے پر بھی ثواب ملتا ہے، اور کسی ایسے شخص کی ترجمانی کرنے یا اس کی طرف سے بات واضح کرنے پر بھی اجر ملتا ہے جو اپنی زبان کی لکنت یا ہکلاہٹ کی وجہ سے واضح کلام نہ کر پاتا ہو، اور (کسی کو نفع اٹھانے کے لیے) دودھ دینے والا جانور عاریۃً دینے پر بھی اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو اس چیز پر بھی اجر دیا جاتا ہے جو اس کے کپڑے کے کونے (پلو) میں بندھی ہوئی ہو، پھر وہ اسے ٹٹولتا ہے لیکن اس کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچ پاتا (اور وہ لمحہ بھر کو فکر مند ہوتا ہے)۔“
مسند ابویعلیٰ: 2682، اس کی سند میں المنہال بن خلیفہ راوی موجود ہے جو کہ ضعیف ہے، تاہم حدیث کے دیگر اجزاء صحیح احادیث میں موجود شواہد کی بنا پر معتبر ہیں۔