المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الاستئذان باب: اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2648
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِالْجُرْفِ مَقْدَمَنَا مِنْ خَيْبَرَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ " .ترجمہ
سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت سنا جب ہم خیبر سے واپس آ رہے تھے اور آپ ﷺ مقامِ جُرف میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم لوگ عشاء کی نماز کے بعد (اچانک رات کے وقت) اپنے گھر والوں کے پاس نہ جایا کرو۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 442) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی محمد بن عمر الواقدی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم رات کے وقت اچانک گھر پہنچنے کی ممانعت کی اصل صحیح بخاری و مسلم کی دیگر معتبر احادیث سے ثابت ہے۔