المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ ذَمِّ الكذب ومدح الصدق باب: جھوٹ کی مذمت اور سچائی کی تعریف و توصیف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ .
2633 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدٍ هُوَ ابْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقَبَّلُوا لِي سِتًّا أَتَقَبَّلْ لَكُمُ الْجَنَّةَ " ، قِيلَ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : " إِذَا حَدَّثْتُمْ فَلَا تَكْذِبُوا ، وَإِذَا وَعَدْتُمْ ، فَلَا تُخْلِفُوا ، وَإِذَا اؤْتُمِنْتُمْ فَلَا تَخُونُوا ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھے اپنی جانب سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن بن جاؤں گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ چھ چیزیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم گفتگو کرو تو جھوٹ نہ بولو، جب تم وعدہ کرو تو اس کی خلاف ورزی نہ کرو، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کرو، اپنی نگاہوں کو نیچا رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھوں کو (لوگوں کو ایذا دینے سے) روکے رکھو۔“
اسے ابوبکر بن ابی شیبہ اور احمد بن منیع نے یونس بن محمد اور یحییٰ بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن درجے کی ہے اور اس کے شواہد مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں موجود ہیں۔