المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ قاد أعمى باب: نابینا شخص کی رہنمائی کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2617
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، مَرْفُوعًا : " مَنْ قَادَ أَعْمَى أَرْبَعِينَ خُطْوَةً ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
قُلْتُ : هَذَانِ الْحَدِيثَانِ ضَعِيفَانِ جِدًّا ، وَلَا يَثْبُتُ مِنْ هَذَا شَيْءٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے کسی نابینا شخص کی چالیس قدم تک رہنمائی کی (یا اسے راستہ دکھایا)، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔
میں کہتا ہوں کہ یہ دونوں حدیثیں نہایت ضعیف اور سخت کمزور ہیں، اور اس حوالے سے کوئی بھی روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔